ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کورٹ کا ای ڈی کو حکم، رابرٹ واڈرا کو 5 دن میں سونپاجائے 26 ہزار صفحات کی ہارڈ کاپی

کورٹ کا ای ڈی کو حکم، رابرٹ واڈرا کو 5 دن میں سونپاجائے 26 ہزار صفحات کی ہارڈ کاپی

Mon, 25 Feb 2019 23:32:02    S.O. News Service

نئی دہلی، 25 فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)منی لانڈرنگ کیس کی انکوائری کا سامنا کر رہے کاروباری رابرٹ واڈرا کی درخواست پر دہلی کے پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے ای ڈی کو ہدایت کی ہے کہ پانچ دن کے اندر اندر واڈرا کو دستاویزات کی ہارڈ کاپی سونپی جائے۔اس معاملے سے منسلک دو درخواستوں پر سماعت کی گئی جس میں ایک درخواست میں واڈرا نے ای ڈی سے 26 ہزار صفحات کے دستاویزات کی ہارڈ کاپی مانگی تھی جبکہ دوسری درخواست میں کہا گیا ہے کہ بغیر دستاویزات مہیا کرائے آگے ای ڈی ان سے پوچھ گچھ نہ کرے۔

رابرٹ واڈرا کی جانب سے پیش ہوئے وکیل کے ٹی ایس تلسی نے کورٹ کو کہا کہ دستاویزات کو بغیر پڑھیں یہ جاننا بڑا مشکل ہے کہ ای ڈی نے ان پر کس طرح کے الزامات لگائے ہیں اور ای ڈی کے پاس اس سے جڑے ہوئے کیا ثبوت موجود ہیں۔تلسی نے رابرٹ واڈرا کا دفاع کرتے ہوئے کورٹ کو کہا کہ بغیر دستاویزات کو دیے جس طرح رابرٹ واڈرا سے ای ڈی گھنٹوں سوال جواب کر رہی ہے، یہ مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔

کے ٹی ایس تلسی کی بحث کے بعد ای ڈی کے وکیل ڈی پی سنگھ نے اس کی پرزور مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ چیزوں کو لٹکانے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ڈی پی سنگھ نے کہا کہ واڈرا کے وکیل خراب سے خراب لیپ ٹاپ لے کر کورٹ میں آ جائے ہم اس سارے دستاویزات جو ہارڈ ڈسک میں دیئے ہیں، انہیں کھول کر کورٹ کے سامنے دکھائے گا۔بحث کے دوران ای ڈی کے وکیل نے کہا کہ 26 ہزار سے اوپر صفحات کے دستاویز کاغذ پر مانگے جا رہے ہیں،سوچئے اس میں کتنا کاغذ ضائع ہوگا اور سسٹم کے لئے اسے قطعی اچھا نہیں کہا جا سکتا۔

رابرٹ واڈرا کے وکیل کی اس دلیل پر عدالت نے ای ڈی سے پوچھا کہ کیا دو دن کے اندر اندر کاغذات کی ہارڈ کاپی مہیا کرائی جا سکتی ہے؟ اس کے جواب میں ایجنسی نے کہا کہ ہم نے سافٹ کاپی پہلے ہی دے دی ہے، لیکن اس پر اعتراض کرتے ہوئے واڈرا کے وکیل نے کہا کہ وہ سافٹ کاپی نہیں کھل رہی ہے۔اس کے بعد جج نے ای ڈی کو 5 دن کے اندر اندر واڈرا کو تمام دستاویزات کی ہارڈ کاپی دینے کی ہدایات دی ہیں۔رابرٹ واڈرا سے منی لانڈرنگ کے معاملے میں ای ڈی اس سے پہلے بھی کئی بار پوچھ گچھ کر چکی ہے،لندن کی غیراعلانیہ پراپرٹی کو لے کر بھی ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔


Share: